صوابی

یہ کسی فلم کاسین نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے ۔موت کے کنویں میں بیٹھ کر جو کسی بھی حادثہ،پیچھے سے آٹیک رونما ہوسکتے ہیں مگر اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچنے میں جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے موت کے سوداگروں کی جینا حرام کیا۔سب انسپکٹر اذلان اسلم (Excise,Taxation & Narcotics)ایک نڈر بہادر اور حب الوطنی پولیس آفیسر ہے۔ہمیشہ عوام کی حفاظت نئی نسل کی مستقبل کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال ہر موڑ میں کامیاب غازی رہا۔ایک بہادر پولیس آفیسر جنہوں نے ایک دو بار نہیں بلکہ کئی بار ایسے بڑے بڑے مگر مچھوں کے ساتھ لڑ کر انہیں اپنے کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔سب انسپکٹر اذلان اسلم پر کئی بار مشکل خالات سے گزر چکے ہیں۔جنکی تفصیل عوام کے سامنے پڑے ہے۔سمگلرز کو پکڑنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے- یہ موت کا کھیل ہے صرف موت کا-180 کی سپیڈ میں انکا تعاقب کرنا موت کے کھونیں میں گاڑی چلانے سے کم نہیں- لاک ڈاون، رمضان، سخت سردی کی درمیانی راتوں میں، سخت گرمی کی سخت دوپہروں میں ہر حال میں ہم اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں- یہ کسی ایک بندے کا کردار نہیں بلکہ انسپکٹر سے لیکر آخری ڈرائیور تک ایک جیسے موت کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر جی رہے ہیں-لوگ اکثر پوچھتے ہیں ملزم بھاگ کیسے گیا؟ آج یہ بھی بتا دیتا ہوں- کسی سمگلر کا تعاقب کرتے سب سے پہلے مجھے راہگیروں اور عام عوام کی فکر ہوتی ہے کہ کہیں ہماری ٹکر یا ملزم کی گاڑی کے ٹائر پر فائر ہونے والی گولی سے کوئی راہگیر زخمی نہ ہوجائے- یا سمگلر کسی راہگیر کو ٹکر نا مار دے- دوسری زمہ داری اپنے سٹاف کے تحفظ کی کہ کہیں انکی گولی سے یا روڈ ایکسیڈینٹ میں میرے سٹاف کی جان کو کوئی نقصان نا پہنچے- تیسری ذمہ داری اس ملزم کی جان کی تحفظ ہے جسکو زندہ گرفتار کرنا ہوتا ہے، کیونکہ ہمیں انکو گرفتار کرنے کے اختیارات دئے گئے ہیں نا کہ انکو بپچ چوراہوں میں مارنے کے- ان تمام احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے بھی کئی بار ہمیں خطرناک حادثے پیش آئے او مرتے مرتے بچے اور اس دوران کئی بار ملزمان فرار ہونے میں کامیاب تو ہوئے لیکن کچھ تو کچھ عرصہ بعد دوبارہ بھی پکڑے گئے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here